بنگلورو،7؍جون (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) کانفیڈریشن آف رئیل اسٹیٹ ڈیولپرس اسوسی ایشن آف انڈیا (کریڈیا) کے چیرمین سریش ہری نے آئی این ایس کو بتایا کہ مہاجر مزدوروں کی بسوں اور ٹرینوں کے ذریعہ اپنی آبائی ریاستوں کو واپسی کو بمشکل ایک ماہ ہوا ہے۔ اگرچیکہ کئی تعمیری اور صنعتی شعبے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوچکے ہیں مگر مختلف وجوہات کی بناء پر وہ 40-30 فیصد گنجائش سے کام کررہے ہیں۔ اس میں ایک وجہ سماجی فاصلہ بھی ہے۔ جب رہنما خطوط میں مزید نرمی ہوگی اور مہاجرین کام پر لوٹیں گے تو وہ مرحلہ وار طریقے سے اپنی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔’’
یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ 25 مارچ کو اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان اور اس میں مزید دو ماہ کی توسیع کی وجہ سے کرناٹک بھر میں ہزاروں مزدور 50-40 دن تک پھنسے رہے ۔ان کی اکثریت بنگلورو اطراف و اکناف علاقوں میں موجود تھی۔
سریش ہری نے کہا کہ 3؍مئی تک بس یا ٹرین خدمات اور دیگر ٹرانسپورٹ کی معطلی کی وجہ سے وہ اپنی ریاستوں کو واپس نہیں ہوسکے۔ سریش ہری نے کہا کہ ایسا ان کی زندگی میں پہلی مرتبہ ہوا کہ مہاجرین اچانک لاک ڈاؤن سے پھنس گئے۔ وہ اپنے کام یا نوکری سے محروم ہوگئے اور کسی بھی ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے آبائی مقام کو نہ جاسکے جس سے وہ اس شدید گرما میں راحت کیمپوں میں مقیم رہنے پر مجبور ہوگئے اور جب 3 ؍مئی سے انہیں ان کی آبائی ریاستوں کو پہنچانے بسوں اور ٹرینوں کا انتظام کیا گیا تو وہ سبھی واپس جانے لگے۔’’ موسم گرما کی چلچلاتی دھوپ کی وجہ سے تعمیری سرگرمیوں میں کمی آتی ہے۔ ایسے میں مزدور نوکری بدل لیتے ہیں یا پھر چھٹی لے کر گھر چلے جاتے ہیں اور پھر جون میں واپس ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو قسم کے مزدور ہیں۔ ایک وہ جو دوسری ریاستوں سے آتے ہیں اور دوسرے وہ جو اندرون ریاست سے ہی آتے ہیں۔ دیگر ریاستوں کے مزدور زیادہ ہنر مندر ہوتے ہیں اور تعمیری کاموں میں پلمبنگ، وائرنگ، کارپینٹری، فٹنگ کا کام کرتے ہیں جبکہ مقامی مزدور تعمیری سطح پر مزدوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ مہاجر مزدور کام پر واپس آجائیں مگر وہ معمول کے حالات بحال ہونے اور ان کے ذہنوں سے کورونا وائرس کا خوف ختم ہونے کے بعد ہی وہ لوٹیں گے۔